قبر ميں بھی چہرے پر نکھار ، ہے فاطمہ کی مظلومانہ پکار !

اے شاہ : 

آ دیکھ لے توں نے اپنے جرم کو چھپانے کے لئے بہانے بنائے مظلوم بچی کو دفن کروا دیا مگر ! 5 روز قبر میں ہونے کے باوجود مظلوم بچی فاطمہ کے چہرے پر نکھار ہے وہ اپنی ٹوٹی ہوئی ہڈیوں ، جسم پر تشدد کے نشانات اور تیری   نجاست سے شاید بے پرواہ ہو کہ سو رہی ہے ۔ شاید اس لئے کہ تیری حویلی سے اسے نجات مل چکی ہے جسے تم اور تیری بیوی نے عقوبت خانہ بنا رکھا تھا ۔

سنا ہے تم نے قبر کشائی سے پہلے ہی اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے  اچھا ہوا ورنہ قبر میں سوئی ہوئی معصوم فاطمہ تیرے ظلم کی داستان بتا دیتی اور بتابھی رہی تھی ! ان کی خاموشی ، چمکتا چہرہ ، بند آنکھیں سب کچھ بتا رہے تھے ۔ 

ڈاکٹرز کی جانب سے لیے گئے جزے عدالت کو مطلوب ہیں مگر ! سب سے بڑی عدالت میں مظلوم فاطمہ اپنی مظلومیت پیش کر چکی ہے۔

معصوم بچی قبر سے باہر نکالے جانے کے بعد بھی یہ ہی فریاد کر رہی تھی کہ شمر ، یزید ملعون ہر ذات میں ہوتے ہیں شاہ کی حویلی میں بھی اس نے شمر دیکھا ہے جسے لوگ پیر سمجھ کر تعظیم کرتے ہیں ۔ 

یہ وہ حویلیاں نہیں یہ وہ پیر نہیں جو دوسروں کے گھروں کو اپنا گھر مریدان کے بچوں کو اپنے بچے سمجھتے تھے اور  اپنی اولاد کو کہتے تھے ان کا احترام کرو ان کی تعظیم کرو اس لئے کہ ان کا احسان ہے کہ یہ  ہماری عزت و احترام تعظیم بجا لاتے ہیں ۔  شاید تمہیں یہ تربیت نہیں دی گئی اس لئے کہ توں اپنے بڑوں کا بھی بے ادب ہوگا ۔ بلکل اے  بے ادب شاہ ، پیر : اگرتوں مدینہ منورہ میں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب بھی دفن ہوجائے تو فاطمہ تجھے  کبھی بھی معاف نہیں کرے گی اور تجھے مدینہ کی مقدس دھرتی بھی فایدہ نہیں دے سکے گی ۔ اے بڑوں کے گستاخ اور معصوم بچی فاطمہ کے مجرم 

تجھ پر اور تیرے جیسے ہر  گستاخ و ظالم پر لعنت بیشمار۔

تحریر: مسرور سیال 

0 Comments